• تاریخ: 2011 مئی 13

اختیار کی وضاحت


           


ارادہ کی قوت ، امور یقینی میں سے ہے ،کہ جو ہر انسان میںپائی جاتی ہے، اس لئے کہ ہر انسان خطا ناپذیر علم حضوری کے ذریعہ اسے اپنے وجود میں درک کر تا ہے، جیسا کہ اسی علم کے ذریعہ اپنی بقیہ روحی خصوصیات کا پتہ لگاتا ہے یہاں تک کہ علم حضوری ہی کے ذریعہ کسی امر کے سلسلہ میں شک کا بھی احساس کر تا ہے، اور اسے درک کرنے میں کوئی شک نہیں کرتا۔

اسی طرح انسان ایک معمولی توجہ کے ذریعہ اپنے وجود میں اس بات کا احساس کرتا ہے کہ وہ تکلم کرسکتا ہے یا نہیں، غذا تناول کرسکتا ہے یا نہیں ، ہاتھوں کو حرکت دے سکتا ہے یا نہیں۔

کسی بھی امر کو انجام دینے کا ارادہ بنانا کبھی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے جیسے کہ ایک بھوکا کھانا کھانے کا رادہ کرتا ہے، یا ایک پیاسا پانی پینے کا ارادہ کرتا ہے اور کبھی عقلی آرزوئوں کو پورا کرنے اور انسانی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ارادہ کیا جاتا ہے جیسے کہ ایک مریض اپنی سلامتی حاصل کرنے کے لئے تلخ دوائیں کھاتا کرتا ہے، اور لذ یذ غذائوں سے پرہیز کرتا ہے، یا ایک محقق اپنے مقصود کی تلاش میں مادیات سے چشم پوشی کرتا ہے اوربے شمار زحمتیں تحمل کرتا ہے یا ایک فدا کار فوجی اپنے ہدف تک پہنچنے میں اپنی جان کو بھی قربان کردیتا ہے۔

در اصل انسان کی عظمتوں کا  اندازہ ا س وقت لگتا ہے کہ جب مختلف خوا ہشیں جمع ہوں ، اور اس کے بعد انسان، فضائل اخلاقی، کرامت نفسانی ، اورقرب خداوندی و رضوان الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے اپنی پست اور حیوانی خواہشات سے چشم پوشی کر لے ، اس لئے کہ کوئی بھی عمل جس قدر دلچسپی اور کامل ارادہ سے انجام دیا جائے گا ، اسی کے مطابق روحی تکامل یا تنزل حاصل ہو گا ، اور اسی اعتبار سے  جزاء و سزا کا مستحق ہوگا ۔

البتہ نفسانی خواہشات کے مقابل میں ٹھہر نے کی طاقت تمام انسانوں میں برابر نہیں ہے لیکن تمام انسانوں میں یہ (ارادہ) موہبت الٰہی موجود ہے انسان اگر چاہے تو تمرین کے ذریعہ اسے قوی بنا سکتا ہے۔

لہٰذا ارادہ کے موجود ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور مختلف طرح کے شبہات ذہن میں پیدا ہونے کی وجہ سے ارارہ جیسے امرِ وجدانی کے سلسلہ میں شک و تردید نہیں ہونا چاہئے اور جیسا کہ ہم نے اشارہ کردیا ہے کہ اختیار کا وجود ایک آشکار اصل کے عنوان سے تمام ادیانِ آسمانی، شرائع، اور تربیتی و اخلاقی نظاموں میں قبول شدہ ہے اور اس کے بغیر وظیفہ، تکلیف امر، نہی، جزا و سزا کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

وہ امور جو اس حقیقت سے انحراف کا باعث ہوتے ہیں اور جبر سے لگائو کا سبب بنتے ہیں ہمیں ان کا جواب دینا ضروری تا کہ اس وسوسہ کا خاتمہ ہوجائے لہٰذا اس مقام پر چند شبہات کے جوابات پیش کئے جا رہے ہیں  ۔

منبع: آموزش عقائد، مصباح یزدی

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved